دھوبی کا کتّا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔



  دھوبی کا کتّا روائتی طور پر دھوبی کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔

وجہ یہ ہے دھوبی کپڑے گھاٹ پر دھوتے تھے اور وہیں سکھاتے تھے۔
*گھاٹ کسے کہتے ہیں؟*
گھاٹ کسی دریا یا ندی یا چشمے کا وہ حصّہ جہاں پانی اتھلا ہو۔ یہ لفظ گھٹ یعنی گھٹنے سے نکلا ہے۔ گھاٹ کشتیوں کو کنارے لگانے کے لیے، مسافروں کو اور سامان کو اتارنے چڑھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے/ہیں۔ غازی گھاٹ ڈیرہ غازی خان کا ایک مشہور گھاٹ ہے۔
*دھوبی کپڑے گھاٹ پر کیوں دھوتے ہیں؟*
  گھاٹ پر پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے اس لیے وہاں دھوبی کے ڈوبنے اور کپڑوں کے بہہ جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
*گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا کیوں کہتے ہیں؟*

  سمندری جہازوں یا دریائی کشتیوں کے مسافروں کے لیے پینے کا پانی اسی گھاٹ سے بھرا جاتا تھا جہاں کشتی لنگر انداز ہوتی تھی۔ جو شخص بہت زیادہ پانی میں سفر کرتا تھا اس کے بارے میں یہ کہتے تھے۔

  دھوبی کپڑے گھاٹ پر دھوتے تھے اور وہیں سکھاتے تھے۔
   سکھائے ہوئے کپڑوں کی حفاظت کرنے کے لیے دھوبی کتّا پالتا تھا۔ ورنہ انسان اور جانور ان کپڑوں کو چوری یا خراب کر سکتے تھے۔
جب دھوبی میلے کپڑے لے کرگھر سے گھاٹ پر جاتا تھا عموما گدھے پر رکھ کر یا گدھا گاڑی پر، تو کتّا ہانپتا کانپتا پیچھے پیچھے۔
اور جب واپس آتا تھا توکتّا پیچھے پیچھے۔
وجہ یہ کہ کتّے کو اکیلا گھاٹ پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔
کتّے بھی جانوروں کے اس گروہ سے ہیں جو اپنے رہنے کی جگہ پر اپنی ملکیت قائم کرتے ہیں اور اپنے پیشاب سے اپنے علاقے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت وہ کسی زمین سے کچھ اونچی جگہ جیسے جھاڑی یا درخت کے تنے پر ایک ٹانگ اٹھا کر چھڑکاؤ کرتے ہیں۔
   اس پیشاب میں اس جانور کی مخصوص بو ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس نسل کے دوسرے جانوروں کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ علاقہ کسی اور کی ملکیّت ہے۔ لیکن اگر کوئی اس ملکیّت میں داخل ہوجائے تو مالک اس کا جارحانہ طور پر دفاع کرتا ہے۔
   اب دھوبی کے کتّے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ دھوبی کا گھر بھی اس کا علاقہ اور گھاٹ بھی۔
   مگر دفاع وہ نہ گھر کے علاقے کا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ دن بھر وہاں نہیں ہوتا، نہ گھاٹ کے علاقے کا کیوں وہ وہاں صرف کام کے اوقات میں ہوتا ہے۔
اس لیے دھوبی کا کتّا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔

اس محاورے کا استعمال عموماً ان لوگوں پر ہوتا ہے جو کسی شخص/افسر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ دوسرے ان کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ پھر کسی وقت وہ شخص بھی اس سے ناراض ہوجاتا ہے یا کسی وجہ سے اپنے سے الگ کر دیتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــ
جیسے کسی علاقے میں ایک نوجوان ڈپٹی کمشنر آیا۔ تحصیلدار نے فوراً اس کے ساتھ اظہار وفاداری کیا۔ حد سے زیادہ خدمت۔ ناک کا بال بن گیا۔ ڈپٹی کمشنر اس کے کہنے کے مطابق دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتا تھا۔ لوگ اس تحصیلدار کو ناپسند کرنے لگے۔
6 مہینے بعد ڈپٹی کمشنر نے اپنا تبادلہ کروا لیا۔ نیا ڈپٹی کمشنر گھاگ آدمی تھا۔ اس نے تحصیلدار کو فاصلے پر رکھا۔ اب لوگوں کو اس سے بدلہ لینے موقع مل گیا۔ خوب برا بھلا کہتے اس کو۔ بیچارہ سوچتا تھا کہ میں نے بلاوجہ ایسی حرکت کی۔
ــــــــــ
اس کے بارے میں کہاجاسکتاہے *دھوبی کا کتّا، نہ گھرکا نہ گھاٹ کا*
 Copy۔

Comments

Popular posts from this blog

دلچسپ معلومات۔interesting informatioon

ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ ۔اصلی حقیقت

تھپڑ کی قیمت The price of a slap۔