Posts

Showing posts from June, 2020

پاکستا ن کا وزیر اعظم جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی تھی۔

Image
آج سے تقریباً 96سال قبل یعنی20ستمبر1916ء کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا‘ چاربہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹاتھا‘ پوراگاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا‘اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھالہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے جاتا‘راستے میں ایک برساتی نالے سے اسے گزرناپڑتا‘چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا‘اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا‘مذید تعلیم حاصل کرنے لاہورآیا‘یہاں اس نے سنٹرل ماڈل سکول میں(جوکہ اس وقت کا نمبر 1سکول تھا) داخلہ لے لیا‘اس کا گاؤں شہر سے13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کی وجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالاتکے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ ان حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا‘ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں...

گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا

Image
حرمین شریفین کی انتظامیہ کی جانب سےایک تقریب منعقد کی گئی جس میں مسجد نبوی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر مبارک کے بارے میں مکمل وضاحت کی گئی “ تشریح وتوضیح:- گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔ وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحاب کی قبریں ہیں، اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے۔ یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔ اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ روضہ رسولؐ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر پڑے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔ روضہ رسولؐ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیو...

قائد اعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔

Image
قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھوں نے یہ واقعہ سنایا ’’میں پہلے ایک ہی برتھ مخصوص کراتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں لکھنٔو سے بمبئی جا رہا تھا۔ کسی چھوٹے سے اسٹیشن پر ریل رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسری برتھ پر بیٹھ گئی۔ چونکہ میں نے ایک ہی برتھ مخصوص کرائی تھی، اس لیے خاموش رہا. ریل نے رفتار پکڑی تو اچانک وہ لڑکی بولی ’’تمھارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو، ورنہ میں ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ میں نے کاغذات سے سر ہی نہیں اٹھایا۔اُس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔ آخر تنگ آ کر اُس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا ’’میں بہرہ ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے، لکھ کر دو۔‘‘اُس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کر دیا۔میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے مع تحریر ریلوے حکام کے حوالے کردیا۔ اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھیں مخصوص کراتا ہوں۔‘‘😀 ا یک بار قائد اعظم محمد علی...

بزرگ نے جج کو دعا دی اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار لگائے۔

Image
‏13سال بعد مقدمہ جیتنے پر بزرگ کو جج نے مبارکباد دی تو بزرگ نے جج کو دعا دی  اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار بناۓ ۔جج بزرگ کی سادگی پر مسکرا دیا اور کہا جج تھانیدار سے بڑا ہوتا ہے  بزرگ بولے نہیں بیٹا تھانیدار بڑا ہوتا ہے جج نے پوچھا کیسے؟ ‏تو بزرگ بولے آپکو کیس ختم کرنے میں 13سال لگ گے تھانیدار شروع سے بول رہا تھا 5000 دے دو اور میں معاملہ ادھر ہی رفع دفع کردیتا ہوں۔,,, منقول

دانت برش کرنا ہمار روزمرہ کا معمول بانے۔

Image
بسم اللہ الرحمن الرحیم #دانت برش کرنا ہمار روزمرہ کا معمول ہے ۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ٹوتھ برش کی ٹیوب پر بالکل نیچے ایک رنگین چوکور ڈبہ بنا ہوتا ہے جو کلر کوڈ کہلاتا ہے۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کلر کوڈ کیا بتاتے ہیں۔ سیاہ ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کے نیچے بنے کلر کوڈ کا سیاہ رنگ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف کیمیکلز سے بنا ہوا ٹوتھ پیسٹ ہے۔ سرخ سرخ رنگ کا کوڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ قدرتی اور کیمیائی اجزا کی آمیزش سے بنایا گیا ہے۔ نیلا نیلے رنگ کا مطلب ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں قدرتی اجزا اور دوائیں شامل ہیں۔ یہ ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی کسی قسم کی بیماری رکھنے والے افراد کو تجویز کیا جاتا ہے۔ سبز سبز کلر کوڈ ٹوتھ پیسٹ کے خالص قدرتی اجزا سے بنے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب بھی ٹوتھ پیسٹ خریدا جائے تو ان کلر کوڈز کو ذہن میں رکھتے ہوئے خریدا جائے۔ بچوں کے لیے سیاہ کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جو صرف کیمیکلز سے بنائے گئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح سبز کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی صحت کے لیے موزوں ہیں۔

دوسروں کی زندگی تباہ و برباد مت کیجئے"

Image
ایک نوجوان نے دوسرے سے پوچھا: آپ کہاں کام کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: فلاں دکان پر. پھر پوچھا: اچھا! دکان والا آپ کو کتنی تنخواہ دیتا ہے؟ اس نے جواب دیا 5000 نوجوان نے بڑی حیرت سے پوچھا: 5000 بس ؟ اتنے میں کیسے تمہارا گزر بسر ہوتا ہے۔ یقینا وہ دکان والا اس لائق نہیں کہ آپ اس کے پاس اتنی تنخواہ میں کام کریں۔ اسی دن سے اسے اپنے کام سے نفرت ہونے لگی۔ وہ دکان والے سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کرنے لگا۔ دکان والے نے تنخواہ بڑھانے سے انکار کر دیا۔ تو اس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ پہلے جو کچھ کماتا تھا اب اس سے بھی ہاتھ دھو کر کے بیٹھ گیا اور بے کاری کی زندگی گزارنے لگا۔ _____________ ایک خاتون کے یہاں ولادت ہوئی۔ اس کی سہیلی اس مبارک موقع پر اس سے پوچھ بیٹھی: تمہارے شوہر نامدار نے ولادت کے اس مبارک موقع پر تمہارے لیے کیا تحفہ پیش کیا؟ اس خاتون نے جواب دیا: کچھ بھی نہیں! اس کی سہیلی بڑی حیرت سے کہنے لگی: کتنی عجیب بات ہے! کیا اس کے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس کی سہیلی الفاظ کا یہ بارود اس پر ڈال کر چلتی بنی۔ ظہر کے وقت اس کا شوہر گھر آیا۔ تو دیکھا بیوی بہت ناراض بیٹھی ہے۔ دونو...

بیٹی کی خاطر 20 لاکھ ڈالر جلانے والا شخص

Image
بیٹی کی خاطر 20 لاکھ ڈالر جلانے والا شخص تصویر میں دکھائی دینے والے اس شخص کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں 2 ملین (20لاکھ) ڈالر جلائے تھے۔ اس شخص نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ اس کے پاس جلانے کے لیے لکڑیاں نہیں تھیں اور اس کی بیٹی کو ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ یہ شخص کوئی اور نہیں انڈرورلڈ ڈان “Pablo Escober” تھا۔ وکی پیڈیا کے مطابق انتقال کے وقت اس کے پاس 1993ء میں کالا دھن 30 بلین ڈالر تھا جس کی مالیت آج کل 53.5 بلین ڈالر بنتی ہے۔ اگر اسے پاکستانی روپیہ میں تبدیل کریں تو یہ 8,626,875,000,000 (چھیاسی کھرب، چھبیس ارب، ستاسی کروڑ، پچاس لاکھ) بنتی ہے۔

عدل وانصاف کی پاسداری ۔۔

Image
ایک دن شیر شاہ سوری کےسامنے ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا جس میں قاتل کا سراغ نہیں مل رہا تھا یہ قتل اٹاوہ کے کسی علاقے میں ہوا تھا۔ شیر شاہ سوری نے مقدمے کی سماعت کی۔ اس نے اٹاوہ کے شقدار کو حکم بھیجا کہ جس علاقے میں قتل ہوا ہے اس کے آس پاس واقع کسی درخت کو دو آدمی بھیج کر کٹوائے اور جو سرکاری عامل اس درخت کے کاٹنے کی اطلاع پا کر آئیں انہیں پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دو۔ شقدار نے شاہی فرمان کے مطابق دو آدمی درخت کاٹنے کے لئے موقعہ واردات پر بھیجے۔ وہ ابھی درخت کاٹ ہی رہے تھے کہ علاقے کے  can اور معتبروں نے انہیں موقع پر آن پکڑا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اشخاص نے درخت کاٹنا چھوڑ دیا اور ان معتبروں کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے ان سے دریافت کیا کہ تمہیں درخت کٹنے کی خبر تو ہو گئی لیکن ایک انسان کی گردن کٹ گئی اور تم اس سے بے خبر رہے۔ میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تین دن کے اندر اند ر قاتل کو پیش کرو ورنہ سزا میں تم قتل کر دیئے جاؤ گے۔ معتبروں کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور تیسرے دن کا سورج ابھی طلوع بھی نہ ہوا تھا کہ “قاتل شاہی دربار کے دروازے پر زنجیر و سلاسل میں جکڑے ہوئے حاضر تھے”...

جب معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ گیا.

Image
کچھ عرصہ پہلے ایک سفر کے دوران ﺟﻮﻧﮩﯽ سرگودھا ﮐﮯ پہاڑوں کی ﻣﻮﮌﻭﺍﻟﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺭﻭﮈ ﺑﻼﮎ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ لوﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻟﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﻓﺎﺭﻣﺰ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺭﻧﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ . ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ تھیلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ . ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﺖ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ . ﺑﻶﺧﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﻣﺸﺘﻌﻞ ﮨﺠﻮﻡ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ . ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ . ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﻋﻤﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﻢ کافی ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ . ﻟﻮ ﺟﯽ ﺍﺩ...

مسلمان کے وعدے کی یادگار

Image
یہ ایک دکان ایک ہندو کی ہے جو تقسیمِ ہند کی وقت بہت افسوس کے ساتھ یہ دکان چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا لیکن جاتے وقت بہت رویا اور گاؤں کے لوگوں کو کہا کہ میں واپس اپ لوگوں کے پاس لوٹ آؤں گا۔ لورا لائی میں موجود اس دکان کو ابھی تک وہی تالہ لگا ہے جو ہندو کاکڑجاتے وقت لگا کر چابی اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔ 73 سال سے یہ دکان بند پڑی ہے۔ مالک مکان جو کہ اب فوت ہو چکا ہے، نے بچوں کو وصیت کی ہے کہ اس دکان کا تالہ توڑنا نہیں، مَیں نے اس کاکڑ ہندو کو زبان دی ہے کہ یہ دکان تمارے آنے تک بند رہے گی۔ مالک مکان کی اولاد آج بھی اس تالے کو ہاتھ نہیں لگاتی حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ ہندو کاکڑ اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن وفا کی یادگار کے طور پر اب تک یہ دکان اس ہندو کے ساتھ ایک مسلمان کے وعدے کی یادگار ہے۔
Image
"CERN Lab" Switzerland copy"سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ زندگی میں ایک بار سرن ضرور دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے لیکن سرن ہے کیا؟ ہمیں یہ جاننے سے قبل کائنات کے چند بڑے حقائق جاننا ہوں گے۔ ہماری کائنات 13ارب 80 کروڑ سال پرانی ہے‘ زمین کو تشکیل پائے ہوئے پانچ ارب سال ہو چکے ہیں‘ ہماری کائنات نے ایک خوفناک دھماکے سے جنم لیا تھا‘ یہ دھماکہ بگ بینگ کہلاتا ہے‘ بگ بینگ کے بعد کائنات میں 350ارب بڑی اور 720 ارب چھوٹی کہکشائیں پیدا ہوئیں‘ ہر کہکشاں میں زمین سے کئی گنا بڑے اربوں سیارے اور کھربوں ستارے موجود ہیں‘ یہ کائنات ابھی تک پھیل رہی ہے‘ یہ کہاں تک جائے گی‘ یہ کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے بھید چھپے ہیں ہم انسان تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس کا صرف 4فیصد جانتے ہیں‘ کائنات کے96فیصد راز تاحال ہمارے احاطہ شعور سے باہرہی۔ یہ96 فیصد نامعلوم بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں‘ 44فیصد حصہ وہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ سائنس دان اس 44 فیصد حصے کو ’’ڈارک میٹر‘‘ کہتے ہیں‘ یہ ڈارک میٹر سپر انرجی ہے‘ ...
Image
"CERN Lab" Switzerland copy "سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘ آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ زندگی میں ایک بار سرن ضرور جائیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے لیکن سرن ہے کیا؟ ہمیں یہ جاننے سے قبل کائنات کے چند بڑے حقائق جاننا ہوں گے۔ ہماری کائنات 13ارب 80 کروڑ سال پرانی ہے‘ زمین کو تشکیل پائے ہوئے پانچ ارب سال ہو چکے ہیں‘ ہماری کائنات نے ایک خوفناک دھماکے سے جنم لیا تھا‘ یہ دھماکہ بگ بینگ کہلاتا ہے‘ بگ بینگ کے بعد کائنات میں 350ارب بڑی اور 720 ارب چھوٹی کہکشائیں پیدا ہوئیں‘ ہر کہکشاں میں زمین سے کئی گنا بڑے اربوں سیارے اور کھربوں ستارے موجود ہیں‘ یہ کائنات ابھی تک پھیل رہی ہے‘ یہ کہاں تک جائے گی‘ یہ کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے بھید چھپے ہیں ہم انسان تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس کا صرف 4فیصد جانتے ہیں‘ کائنات کے96فیصد راز تاحال ہمارے احاطہ شعور سے باہرہیں۔ یہ96 فیصد نامعلوم بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں‘ 44فیصد حصہ وہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ سائنس دان اس 44 فیصد حصے کو ’’ڈارک میٹر‘‘ کہتے ہیں‘ یہ ڈارک میٹر سپر انرجی...
Image
"CERN Lab" Switzerland copy "سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘ آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ زندگی میں ایک بار سرن ضرور جائیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے لیکن سرن ہے کیا؟ ہمیں یہ جاننے سے قبل کائنات کے چند بڑے حقائق جاننا ہوں گے۔ ہماری کائنات 13ارب 80 کروڑ سال پرانی ہے‘ زمین کو تشکیل پائے ہوئے پانچ ارب سال ہو چکے ہیں‘ ہماری کائنات نے ایک خوفناک دھماکے سے جنم لیا تھا‘ یہ دھماکہ بگ بینگ کہلاتا ہے‘ بگ بینگ کے بعد کائنات میں 350ارب بڑی اور 720 ارب چھوٹی کہکشائیں پیدا ہوئیں‘ ہر کہکشاں میں زمین سے کئی گنا بڑے اربوں سیارے اور کھربوں ستارے موجود ہیں‘ یہ کائنات ابھی تک پھیل رہی ہے‘ یہ کہاں تک جائے گی‘ یہ کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے بھید چھپے ہیں ہم انسان تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس کا صرف 4فیصد جانتے ہیں‘ کائنات کے96فیصد راز تاحال ہمارے احاطہ شعور سے باہرہیں۔ یہ96 فیصد نامعلوم بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں‘ 44فیصد حصہ وہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ سائنس دان اس 44 فیصد حصے کو ’’ڈارک میٹر‘‘ کہتے ہیں‘ یہ ڈارک میٹر سپر انرجی...

یاد ھے سب ذرا ذرا، تمہیں یاد ھو کہ نہ یاد ھو

Image
 یاد ھے سب ذرا ذرا، تمہیں یاد ھو کہ نہ یاد ھو   (1970 ایک تاریخی واقعہ) ایک خاتُون کے پیچھے کراچی کی عوام نے جُمعے کی نماز پڑھی۔ وہ سرکاری مہمان بھی تھی. جب اللّٰہ تعالٰی کے احکامات سے اِنکار اور قُرآنِ پاک کو سمجھنے سے قاصِر بھِیڑ ضعِیفُ العقائدی کی دلدل میں آئی ہو تو ایسا کُچھ ہوتا ہےـ یُوں ہُوا کہ۔۔۔ یہ 70 ٔ کی بات ہے کہ جب اِنڈونیشیا میں صدر سوہارتو کی حکُومت تھی اور پاکِستان میں جنرل یحیٰی خان کا مارشل لاء تھاـ انڈونیشیا کی ایک خاتُون "زہرہ فونا" نے حضرت مہدیؑ کی والدہ ہونے کا دعویٰ کر دِیاـ اُس کا کہنا تھا کہ اُس کے رحم میں پرورِش پانے والا بچہ حضرت مہدیؑ ہے۔ پھِر کُچھ یُوں ہوا کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دِلانے میں کامیاب ہو گئی کیونکہ اُسکے پیٹ سے کان لگا کر سُننے پر اذان اور تِلاوتِ قُرآن کی آواز آتی تھی. یہ خبر پُورے اِنڈونیشیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جب یہ خبر اِنڈونیشی حُکام تک پہنچی تو سب سے پہلے اِنڈونیشیا کے اُس وقت کے نائِب صدر آدم مالِک نے زہرا فونا کو اپنی رہائش گاہ پر مدعُو کِیا اور دورانِ مُلاقات اُس کے پیٹ پر کان لگا کر اذان سُننے کا شرف ...

میری زندگی کے وہ سارے لمحے میرے استاد آپ کے

Image
"ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان  ملکہ برطانیہ اور ان کے شوہر کو پاکستان دورے کے دوران برن ہال سکول ایبٹ آباد لے گئے، ملکہ تو ایوب خان کے ساتھ بچّوں سے ہاتھ ملاتی آگے بڑھ گیئں، اُن کے شوہر بچّوں سے باتیں کرنے لگے، پُوچھا کہ بڑے ہو کے کیا بننا ہے، بچّوں نے کہا ڈاکٹر ، انجنیئر ، آرمی آفیسر ،  پائلٹ ، وغیرہ وغیرہ۔ وہ کچھ خاموش ہو گئے پھرلنچ پر  ایوب خان سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا کچھ سوچنا چاہیے، میں نے بیس بچّوں سے بات کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹیچر بننا ہے اور یہ بہت خطرناک  ہے... ایوب خان صرف مسکرا دیے کچھ جواب نہ دے سکے اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی ، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔’’ سکندرِ اعظم ‘‘یونانی جس نے آدھی سے زیادہ دنیا اپنی تلوار کی دھار پر فتح کی ،’’ ارسطو ‘‘جیسے معلم اول کا شاگرد تھا۔  یہ مجلسِ یونان ہو، یا ایوانِ قیصرو کسریٰ، یہ خل...

دنیا کی بہترین شارٹ فلم۔۔۔۔۔۔

Image
ایک فلم تھیٹر نے اعلان کیا کہ 8 منٹ کی فلم نے دنیا کی بہترین شارٹ فلم کا خطاب دیا ہے ... لہذا ، یہ فلم سینما میں مفت میں ڈسپلے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، تاکہ اسے دیکھنے کے لئے سب سے بڑا ہجوم جمع ہوسکے.  ... مووی ایک کمرے کی چھت کی تصویر سے شروع ہوئی تھی جو کسی بھی سجاوٹ اور کسی بھی نقش و نگار سے خالی ہے۔ صرف ایک سفید چھت ... 3 منٹ بغیر کیمرے کے حرکت کیے گزرے اور کسی دوسرے سین کو نہیں دکھایا گیا ... مزید 3 منٹ بغیر کیمرے کے حرکت کیے اور منظر کو تبدیل کیے بغیر گزرے ... 6 بورنگ منٹ کے بعد ، دیکھنے والوں نے آوازیں لگانا شروع کردی۔ ان میں سے کچھ تھیٹر ہال چھوڑنے والے تھے۔ اور ان میں سے کچھ لوگوں نے تھیٹر کے عہدیداروں پر اعتراض کیا کیونکہ انہوں نے چھت دیکھنے میں اپنا وقت ضائع کیا ... پھر اچانک اکثریت میں تشویش پیدا ہونے لگی اور رخصت ہونے ہی والے تھے ،کہ بغیر کسی تفصیل کے کیمرہ آہستہ آہستہ چھت سے دیوار کی طرف چلا گیا یہاں تک کہ وہ نیچے کی طرف فرش کی طرف پہنچا.  وہاں ایک بچہ بستر پر نمودار ہوا ، جو کسی وجہ سے مکمل طور پر معذور تھا۔ اس کے چھوٹے سے جسم میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ت...

REVISIT YOUR BACpan،

Image
Copied کپڑے کا بستہ استعمال کیا ہوا ہے ، رات کے وقت کالا دھاگہ باندھ کر لوگوں کے گھروں کی کنڈیاں "کھڑکائی" ہوئی ہیں ، بنٹے کھیلے ہوئے ہیں، سائیکل کے ٹائر کو چھڑی کے ساتھ گلیوں میں گھمایا ہوا ھے، شب برات پر مصالحہ لگی "چچڑ" سمینٹ والی دیوار سے رگڑی ہوئی ھے، دو روپے والا نیلا نوٹ استعمال کیا ہوا ھے، استاد سے مار کھائی ہوئی ھے، ریاضي کا مسئلہ اثباتی حل کیا ہوا ھے، عاد اعظم نکا لے ہوئے ہیں، پٹھو گرم کھیلے ہوئے ہیں، سکول کی آدھی چھٹی کا لطف اٹھایا ہوا ھے، تختی کو گاچی لگائی ہوئی ھے، گھر سے آٹا لے جا کر تنور سے روٹیاں لگوائی ہوئی ہیں، سکول کی دیوار پھلانگی ہوئی ھے، غلے میں پیسے جمع کیے ہوئے ہیں، سہ پہر چار بجے "بولتے ہاتھ" دیکھا ہوا ھے، پی ٹی وی پر کشتیاں دیکھی ہوئي ہیں، چھت پر چڑھ کر انٹینا ٹھیک کیا ہوا ھے، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھا ہوا ھے، اپنے لینڈ لائن فون کو لکڑی کے باکس میں تالا لگا کر بند کیا ہوا ھے، میلے میں تین دن تک سائیکل چلتی دیکھی ھے، کتاب کے لیے ابا جی سے پیسے لیکر عمران سیریز خریدی ہوئی ھے، بارات میں پیسے لوٹے ہو...

کسی کو کافر کہنے سے پہلے اپنے کاموں پر غور کریں

Image
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔ جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟" بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔؟" کیوں "مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔ "خرید لیتے" "پیسے نہیں تھے" "گھر والوں سے لے لیتے" "گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔" "تم کچھ کام نہیں کرتے؟" "کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔" "تم کسی سے مدد مانگ لیتے" "صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی" جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔ "چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔  اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمان...

مسلم ایمانداری کا معیار

Image
 جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے، وہاں پر پہلے میر پور کا پرانا شہر آباد تھا جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ  ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گِردو نواح میں گھوم رہا تھا۔ راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پَھٹے پُرانے تھے۔ دونوں کے جوتے بھی ٹُوٹے پُھوٹے تھے۔ انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا، " بیت المال کس طرف ہے "؟ آزاد کشمیر میں سرکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔*  *میں نے پوچھا " بیت المال میں تمہارا کیا کام ہے"؟*  *بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا، " میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کُرید کُرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انہیں اس کھوتی پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔  ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تاکہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔  *آج ب...

ایک کہانی زمانے کی زبانی ۔۔۔

 ِ والد نے ان کا نام محمد لطیف رکھا‘ وہ بڑے ہو کر چودھری محمد لطیف ہو گئے لیکن *دنیا انہیں ”سی ایم لطیف“ کے نام سے جانتی تھی*‘ وہ پاکستان کے پہلے وژنری انڈسٹریلسٹ تھے اور انڈسٹریلسٹ بھی ایسے کہ *چین کے وزیراعظم چو این لائی‘ شام کے بادشاہ حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ ان کی فیکٹری دیکھنے کیلئے لاہور آتے تھے*‘ چو این لائی ان کی فیکٹری‘ ان کے بزنس ماڈل اور ان کے انتظامی اصولوں کے باقاعدہ نقشے بنوا کر چین لے کر گئے اور وہاں اس ماڈل پر فیکٹریاں لگوائیں سی ایم لطیف کی مہارت سے شام تھائی لینڈ‘ ملائیشیا اور جرمنی تک نے فائدہ اٹھایا‘ وہ حقیقتاً ایک وژنری بزنس مین تھے‘ *وہ مشرقی پنجاب کی تحصیل بٹالہ میں پیدا ہوئے*‘ والد مہر میران بخش آرائیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن وہ لطیف صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے‘ لطیف صاحب نے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کی‘ *یہ 1930ء میں مکینیکل انجینئر بنے* اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دو کمروں اور ایک ورانڈے میں اپنی پہلی مل لگائی‘ یہ صابن بناتے تھے‘ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق چودھری بھی ان کے ساتھ تھے‘ صدیق صاحب نے ب...

لاک ڈاؤن کے نتائج آنا شروع

Image
لاک ڈاؤن کے نتائج آنا شروع  صبح آٹھ بجے میرے پڑوسی نے میری موٹر سائیکل کی چابی مانگی کہا "مجھے لیب سے ایک  ہو گئےرپورٹ لانی ہے میں نے کہا ٹھیک ہے لے لو بھائی۔ تھوڑی دیر بعد پڑوسی رپورٹ لے کر واپس آیا، مجھے چابی دی اور مجھے گلے لگایا، اور "بہت بہت شکریہ" کہہ کراپنے گھر چلا گیا. جیسے ہی وہ اپنے گھر گیا، گیٹ پر ہی کھڑے ہو کر اپنی بیوی سے کہنے لگا، "رپورٹ پازیٹو آئی ہے" جب یہ بات میرے کان میں پڑی تو میں تو گرتے گرتے بچا، خوفزدہ ہوکر ، میں نے اپنے ہاتھوں کو سینیٹائزر سے صاف کیا ، پھر موٹر سائیکل کو دو بار سرف سے دھویا، پھر یاد آیا مجھے اس نے گلے بھی لگایا تھا، میں نے دل میں سوچا مارا گیا تو بیٹا، تجھے بھی اب کرونا ہو کر رہے گا، پھر ڈیٹول صابن سے رگڑ رگڑ کر نہایا اور دکھی ہوکر گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گیا. . تھوڑی دیر بعد میں نے پڑوسی کو فون کر کے کہا، "بھائی، اگر آپ کی رپورٹ پازیٹو تھی" تو کم سے کم مجھے تو بخش دیتے ...؟ "میں بے چارہ غریب تو بچ جاتا" پڑوسی زور زور سے ہنسنے لگا اور کہنے لگا "وہ رپورٹ ." وہ رپورٹ تو آپ ک...

دنیا کاسب سے زیادہ مقدمات لڑنے اور جیتنے والا شخص

Image
امریکی شہری جوناتھن لی رچرڈ یہ دنیا کا عجیب و غریب انسان تھا یہ دنیا میں سب سے زیادہ مقدمات لڑنے والا شخص کہلاتا ہے. اس نے سب سے پہلا مقدمہ اپنی ماں کے خلاف درج کروایا کہ ماں نے ان کی تربیت اچھی نہیں کی ہے یہ کیس جیت گیا اور 20 ہزار ڈالر معاوضہ اسے ملے. اس نے اپنے دوستوں،اپنے اساتذہ،اپنے ہمسایہ،اپنے رشتہ دار،اپنی منگیتر،پولیس آفیسران،ججز،مشہور کمپنیوں حتی کہ جارج بش پر بھی مقدمات کئے. مختلف عدالتوں میں ان کی طرف سے داخل کئے گئے مقدمات کی تعداد 2600 ہوگئی،ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ میں شامل کیا گیا اس نے گنیز بک آف ورلڈ مالکان کے خلاف مقدمہ کیا کہ ان کی اجازت کے بغیر ان کی ذاتی زندگی سے متعلق مواد کیوں شائع کر دیا ہے. مختلف مقدمات میں یہ ہرجانوں اور معاوضوں کی صورت میں آٹھ لاکھ پچاس ہزار ڈالر جیت گیا. انہیں ایک ٹی وی ٹاک شو میں بلایا گیا اس نے انتہائی دکھ اور رنج کے عالم میں میزبان سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے اتنی شہرت کے باوجود میں تنہا زندگی گزار رہا ہوں کوئی مجھ سے پیار کرنے والا نہیں ہے. ٹی وی میزبان اس سوال پر ہنس پڑے اور کافی دیر تک ہنستے رہے یہ ٹاک شو چھوڑ کر اٹھا اور ٹی و...

قول اور نفس کی جنگ۔۔۔۔۔

Image
ایک بادشاہ تھے ان کے ایک پیر تھے  اور ان کے  بہت پیروکار اور مرید تھے بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں ۔ بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے ۔ مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا ۔ تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی ۔ اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں ۔ اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا ۔ ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟ میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو ۔ اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر ک...

حاضر دماغ کون

Image
استاد نے اپنے شاگردوں کا امتحان لینے کے لئے ان کے سامنے ایک مقدمہ رکھا اور ان کو اپنی رائے لکھنے کو کہا ایک شخص کے گھر مہمان آئے۔ اس نے ان کی خاطر مدارات کی۔۔lاپنے ملازم کو دودھ لینے بھیجا تاکہ مہمانوں کے لیے کھیر بنائی جائے۔ ملازم دودھ کا برتن سر پر رکھے آرہا تھا کہ اوپر سے ایک چیل گذری جس کے پنجوں میں سانپ تھا۔ سانپ کے منہ سے زہر کے قطرے نکلےجو دودھ میں جاگرے۔ مہمانوں نے کھیر کھائی تو سب ہلاک ہوگئے۔ اب اس کا قصوروار کون ہے۔ پہلے شاگرد نے لکھا کہ یہ غلطی ملازم کی ہے اسے برتن ڈھانپنا چاہیے تھا۔ لہذا مہمانوں کا قتل اس کے ذمہ ہے اسے سزا دی جائے گی۔۔۔۔۔ قاضی نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ملازم کو برتن ڈھانپنا چاہیے تھا۔ لیکن یہ اتنا بڑا قصور نہیں کہ اسے موت کی سزا دی جائے۔۔ دوسرے شاگرد نے لکھا اصل جرم گھر کے مالک کا ہے اسے پہلے خود کھیر چکھنی چاہیے تھی۔۔۔۔۔ پھر مہمانوں کو پیش کرنی چاہیے تھی۔ قاضی نے یہ جواز بھی مسترد کر دیا۔۔۔۔۔ تیسرے نے لکھا یہ ایک اتفاقی واقعہ ہے۔۔۔ مہمانوں کی تقدیر میں مرنا لکھا تھا۔ اس میں کسی کو سزا وار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔۔۔قاضی نے کہا کہ یہ کسی جج کی اپروچ ن...