مسلم ایمانداری کا معیار


 جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے، وہاں پر پہلے میر پور کا پرانا شہر آباد تھا جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ  ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گِردو نواح میں گھوم رہا تھا۔ راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پَھٹے پُرانے تھے۔ دونوں کے جوتے بھی ٹُوٹے پُھوٹے تھے۔ انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا، " بیت المال کس طرف ہے "؟ آزاد کشمیر میں سرکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔*

 *میں نے پوچھا " بیت المال میں تمہارا کیا کام ہے"؟*

 *بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا، " میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کُرید کُرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انہیں اس کھوتی پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
 ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تاکہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
 *آج بھی جب وہ نحیف و نزار  مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سَر شرمندگی اور ندامت سے جُھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں اُن دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سَر پر رکھ کر بیٹھوں ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں؟*

 *اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر !

 *قدرت الله شہاب کی "شہاب نامہ" سے*The standard of Muslim honesty

 The site where the Mangla Dam now stands was formerly inhabited by the old city of Mirpur. During the war, most of the city was reduced to rubble.  One day, a local officer was riding around in his jeep.  On the way, a poor old man and his wife were walking slowly on the road, chasing a donkey.  Both their clothes were fairly torn and torn.  Both their shoes were broken.  He stopped our jeep with a signal and asked, "Which way is the treasury?"  In Azad Kashmir, the public treasury was called Bait-ul-Mal. *

 * I asked, "What is your job in the treasury?"

 * The old man simply replied, "I, along with my wife, have collected two sacks of gold and silver jewelery from the rubble of Mirpur city.  Are going to
 We left their donkey in the custody of a police constable and put the sacks in the jeep and took them both with us to take them to the treasury.
 Even today, when I remember that miserable couple, I bow my head in embarrassment and remorse as to why they were sitting side by side in the jeep.  I should have sat with my dirty feet around my eyes and head.  Where do you find such pure people? *

 * Now look for them with a beautiful lamp!

 * Qudratullah Shehab's "Shehabnameh" *

Comments

Popular posts from this blog

دلچسپ معلومات۔interesting informatioon

ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ ۔اصلی حقیقت

تھپڑ کی قیمت The price of a slap۔