Posts

سب کچھ ہے . مگر. دیانتداری اور ایمانداری نہیں

Image
 ایک شخص ٹیکسی میں سوار ہوا، زبان نہ آنے کی وجہ سے زیادہ بات تو نہ کر سکا، بس اس انسٹیٹوٹ کا نام لیا جہاں اسے جانا تھا،   ٹیکسی ڈرائیور سمجھ گیا، اس نے سر جھکایا اور مسافر کو دروازہ کھول کر بٹھایا۔اس طرح بٹھانا ان کا کلچر ہے،   سفر کا آغاز ہوا تو ٹیکسی ڈرائیور نے میٹر آن کیا، تھوڑی دیر کے بعد بند کر دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ آن کر دیا،   مسافر حیران تھا مگر زبان نہ آنے کی وجہ سے چپ رہا، جب انسٹیٹوٹ پہنچا تو استقبال کرنے والوں سے کہنے لگا، پہلے تو آپ اس ٹیکسی ڈرائیور سے یہ پوچھیں کہ اس نے دورانِ سفر کچھ دیر گاڑی کا میٹر کیوں بند رکھا؟   مسافر کی شکایت پر لوگوں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟   وہ بولا ’’راستے میں مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے جس جگہ سے مڑنا تھا، وہاں سے نہ مڑ سکا، اگلا یوٹرن کافی دور تھا، میری غلطی کے باعث دو ڈھائی کلومیٹر سفر اضافی کرنا پڑا، اس دوران میں نے گاڑی کا میٹر بند رکھا، جو مسافت میں نے اپنی غلطی سے بڑھائی اس کے پیسے میں مسافر سے نہیں لے سکتا‘‘۔   آپ کو حیرت ہوگی کہ اس ڈر...

ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ ۔اصلی حقیقت

Image
 *‏کھوٹا سکہ​* * ستمبر 1948 کی بات ہے  جب ہندوستان نے ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ ریاست کا حکمران (نواب مہابت خان) لاکھ مسلمان سہی مگر ریاستی عوام کی اکثریت تو ہندو ہے جب کہ اس استعماری ریاست نے جموں و کشمیر پر قبضہ کرتے ہوئے یہ دلیل دی تھی کہ ریاست کا حکمران ہندو ‏ہے اور اس نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیا ہے۔  خیر! قصہ مختصر یہ کہ جونا گڑھ پر بھارتی قبضہ کے بعد نواب مہابت خاب بدقت تمام اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان بچا کر اور مختصر ضروری سامان لے کر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔  یہاں انہوں نے اس وقت کے دارالحکومت کراچی‏ کے مشہور علاقے کھارادر میں قیام کیا۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں کی ایک سڑک پر وزیر مینشن نام کی وہ سہ منزلہ عمارت واقع ہے جسے حضرت قائد اعظم علیہ الرحمۃ کی جائے پیدائش ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ نواب صاحب اپنے سرکاری خزانے میں 48 من سونا چھوڑ آئے تھے۔ وہ ایسی جگہ پر محفوظ تھا جس کا علم‏ نواب صاحب کے سوا کسی کو نہیں تھا۔  اگر ہندوستانی افواج پورا محل بھی کھود کر پھینک دیتیں تو انہیں سونا نہ ملتا۔  نواب صاحب کی خواہش ی...

جیولر ایک چھپا ڈاکو

Image
 سنیارا / جیولر ایک چھپا ڈاکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو سمجھاتا ھوں کہ جیولرز کیسے اچھے خاصے پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو ایک روایتی طریقے سے بیوقوف بنا لیتے ہیں اور ان پڑھ لوگوں کی تو بالکل مت ہی مار دیتے ہیں مثلا ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ھے آج کل یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو 👇 ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے #قیراط قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ...

نظر کی کمزوری۔

 💕نظر کوکمزوری سے بچانے کے چند طریقے 💕آج کل نظر کی کمزوری ایک عام مسئلہ بن چکی ہے اور کم عمری سے چشمہ لگ جاتا ہے تاہم اگر آپ کوشش کریں تو نظر کو قبل ازوقت یا عمر کے ساتھ آنے والی کمزوری سے تحفظ دے سکتے ہیں اور چشمہ لگانے سے بچ سکتے ہیں اور چشمہ لگانے سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے ہی نکات دئیے گئے ہیں جو آپ کی آنکھوں کو صحت مند اور بینائی کو مضبوط رکھنے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ 💕مچھلی کا استعمال مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈزسے بھرپور ہوتی ہے جو آنکھوں کو ڈرائی آئی نامی مرض کے خطرے سے بچانے میں مدد گار جُز ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مچھلی پسند نہیں تو مچھلی کے تیل کے فوائد کو مددنظر رکھتے ہوئے اور ڈاکٹر سے مشورہ کرکے یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 💕ہمیشہ گوگلز کا استعمال جب بھی تیراکی یا لکڑی کا کوئی کام کریں تو گوگلز کو ضرور آنکھوں پر چڑھائیں۔ تیراکی کے لیے آنکھوں کے گوگلز آپکی آنکھوں کو کلوراپن سے بچا سکتے ہیں۔ جبکہ لکڑی کے کام کے دوران یہ ذرات کو آنکھوں میں جانے نہیں دیتے جوقرنیے میں خراش کا باعث بن سکتے ہیں۔ 💕اے سی کی ہواسے گریز گاڑی میں اے سی کی ہوا کا رخ آنکھوں کی بجائے پیرو...

99 انو کھی اور دلچسپ باتیں*

 *99 انو کھی اور دلچسپ باتیں* 1۔قطبِ شمالی کے آسمان سے سال کے 186 دن تک سورج مکمل طور پر غائب رہتا ہے 2۔سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کی توقع اتنی ہی کم ہے۔ 3۔ کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔ 4۔انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔ 5۔پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔ 6۔کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔ 7۔ A nut for a jar of tuna ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے، ایک ہی بات بن سکتی ہے صرف کچھ سپیس کو درست کرلیں تو۔ 8۔ فلاسفی میں ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ 9۔سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے، لہٰذا سردی والی کھانسی میں چاکلیٹ کھایا کریں 10۔جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہوا تھا۔ 11۔کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے ب...

کہ برطانوی ح پاکستان بھی 15اگست کو معرض وجود میں آیا

Image
ا پاکستان  یومِ آزادی 14اگست ہے یا 15اگست؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہت بحث ہو چکی اور بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تحقیق یہی ثابت کرتی ہے کہ برطانوی حکومت کی دستاویزات کے مطابق ہندوستان کی طرح پاکستان بھی 15اگست کو معرض وجود میں آیا لیکن پھر جولائی 1948میں حکومتِ پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ 15اگست کے بجائے 14اگست 1948کو منائی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ 9جولائی 1948کو حکومتِ پاکستان نے جو ڈاک ٹکٹ جاری کئے ان پر بھی پاکستان زندہ باد کے ساتھ 15اگست 1947کی تاریخ درج تھی لہٰذا یہ سوال بہت اہم ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اپنا یومِ آزادی 15اگست کے بجائے 14اگست کو منانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کیلئے تحقیق کی جائے تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جنہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھ کی قائداعظم ؒ کے بارے میں سوانح عمری 1954میں شائع ہوئی تو اس میں بانی پاکستان کی زندگی اور کردار کے اہم گوشوں کو چھپا دیا گیا جس پر محترمہ فاطمہ جناح خوش نہیں تھیں۔بعدازاں اسٹینلے والپرٹ سمیت...

دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی. باقی مرضی آپ کی"

Image
 سوچئے ؟؟ بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی! "ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا، شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا. اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔  دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں  اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی. ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں. ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے. اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا. کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں. مناسب رقم ج...