Posts

Showing posts from 2020

سب کچھ ہے . مگر. دیانتداری اور ایمانداری نہیں

Image
 ایک شخص ٹیکسی میں سوار ہوا، زبان نہ آنے کی وجہ سے زیادہ بات تو نہ کر سکا، بس اس انسٹیٹوٹ کا نام لیا جہاں اسے جانا تھا،   ٹیکسی ڈرائیور سمجھ گیا، اس نے سر جھکایا اور مسافر کو دروازہ کھول کر بٹھایا۔اس طرح بٹھانا ان کا کلچر ہے،   سفر کا آغاز ہوا تو ٹیکسی ڈرائیور نے میٹر آن کیا، تھوڑی دیر کے بعد بند کر دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ آن کر دیا،   مسافر حیران تھا مگر زبان نہ آنے کی وجہ سے چپ رہا، جب انسٹیٹوٹ پہنچا تو استقبال کرنے والوں سے کہنے لگا، پہلے تو آپ اس ٹیکسی ڈرائیور سے یہ پوچھیں کہ اس نے دورانِ سفر کچھ دیر گاڑی کا میٹر کیوں بند رکھا؟   مسافر کی شکایت پر لوگوں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟   وہ بولا ’’راستے میں مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے جس جگہ سے مڑنا تھا، وہاں سے نہ مڑ سکا، اگلا یوٹرن کافی دور تھا، میری غلطی کے باعث دو ڈھائی کلومیٹر سفر اضافی کرنا پڑا، اس دوران میں نے گاڑی کا میٹر بند رکھا، جو مسافت میں نے اپنی غلطی سے بڑھائی اس کے پیسے میں مسافر سے نہیں لے سکتا‘‘۔   آپ کو حیرت ہوگی کہ اس ڈر...

ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ ۔اصلی حقیقت

Image
 *‏کھوٹا سکہ​* * ستمبر 1948 کی بات ہے  جب ہندوستان نے ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ ریاست کا حکمران (نواب مہابت خان) لاکھ مسلمان سہی مگر ریاستی عوام کی اکثریت تو ہندو ہے جب کہ اس استعماری ریاست نے جموں و کشمیر پر قبضہ کرتے ہوئے یہ دلیل دی تھی کہ ریاست کا حکمران ہندو ‏ہے اور اس نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیا ہے۔  خیر! قصہ مختصر یہ کہ جونا گڑھ پر بھارتی قبضہ کے بعد نواب مہابت خاب بدقت تمام اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان بچا کر اور مختصر ضروری سامان لے کر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔  یہاں انہوں نے اس وقت کے دارالحکومت کراچی‏ کے مشہور علاقے کھارادر میں قیام کیا۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں کی ایک سڑک پر وزیر مینشن نام کی وہ سہ منزلہ عمارت واقع ہے جسے حضرت قائد اعظم علیہ الرحمۃ کی جائے پیدائش ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ نواب صاحب اپنے سرکاری خزانے میں 48 من سونا چھوڑ آئے تھے۔ وہ ایسی جگہ پر محفوظ تھا جس کا علم‏ نواب صاحب کے سوا کسی کو نہیں تھا۔  اگر ہندوستانی افواج پورا محل بھی کھود کر پھینک دیتیں تو انہیں سونا نہ ملتا۔  نواب صاحب کی خواہش ی...

جیولر ایک چھپا ڈاکو

Image
 سنیارا / جیولر ایک چھپا ڈاکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو سمجھاتا ھوں کہ جیولرز کیسے اچھے خاصے پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو ایک روایتی طریقے سے بیوقوف بنا لیتے ہیں اور ان پڑھ لوگوں کی تو بالکل مت ہی مار دیتے ہیں مثلا ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ھے آج کل یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو 👇 ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے #قیراط قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ...

نظر کی کمزوری۔

 💕نظر کوکمزوری سے بچانے کے چند طریقے 💕آج کل نظر کی کمزوری ایک عام مسئلہ بن چکی ہے اور کم عمری سے چشمہ لگ جاتا ہے تاہم اگر آپ کوشش کریں تو نظر کو قبل ازوقت یا عمر کے ساتھ آنے والی کمزوری سے تحفظ دے سکتے ہیں اور چشمہ لگانے سے بچ سکتے ہیں اور چشمہ لگانے سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے ہی نکات دئیے گئے ہیں جو آپ کی آنکھوں کو صحت مند اور بینائی کو مضبوط رکھنے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ 💕مچھلی کا استعمال مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈزسے بھرپور ہوتی ہے جو آنکھوں کو ڈرائی آئی نامی مرض کے خطرے سے بچانے میں مدد گار جُز ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مچھلی پسند نہیں تو مچھلی کے تیل کے فوائد کو مددنظر رکھتے ہوئے اور ڈاکٹر سے مشورہ کرکے یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 💕ہمیشہ گوگلز کا استعمال جب بھی تیراکی یا لکڑی کا کوئی کام کریں تو گوگلز کو ضرور آنکھوں پر چڑھائیں۔ تیراکی کے لیے آنکھوں کے گوگلز آپکی آنکھوں کو کلوراپن سے بچا سکتے ہیں۔ جبکہ لکڑی کے کام کے دوران یہ ذرات کو آنکھوں میں جانے نہیں دیتے جوقرنیے میں خراش کا باعث بن سکتے ہیں۔ 💕اے سی کی ہواسے گریز گاڑی میں اے سی کی ہوا کا رخ آنکھوں کی بجائے پیرو...

99 انو کھی اور دلچسپ باتیں*

 *99 انو کھی اور دلچسپ باتیں* 1۔قطبِ شمالی کے آسمان سے سال کے 186 دن تک سورج مکمل طور پر غائب رہتا ہے 2۔سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کی توقع اتنی ہی کم ہے۔ 3۔ کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔ 4۔انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔ 5۔پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔ 6۔کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔ 7۔ A nut for a jar of tuna ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے، ایک ہی بات بن سکتی ہے صرف کچھ سپیس کو درست کرلیں تو۔ 8۔ فلاسفی میں ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ 9۔سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے، لہٰذا سردی والی کھانسی میں چاکلیٹ کھایا کریں 10۔جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہوا تھا۔ 11۔کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے ب...

کہ برطانوی ح پاکستان بھی 15اگست کو معرض وجود میں آیا

Image
ا پاکستان  یومِ آزادی 14اگست ہے یا 15اگست؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہت بحث ہو چکی اور بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تحقیق یہی ثابت کرتی ہے کہ برطانوی حکومت کی دستاویزات کے مطابق ہندوستان کی طرح پاکستان بھی 15اگست کو معرض وجود میں آیا لیکن پھر جولائی 1948میں حکومتِ پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ 15اگست کے بجائے 14اگست 1948کو منائی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ 9جولائی 1948کو حکومتِ پاکستان نے جو ڈاک ٹکٹ جاری کئے ان پر بھی پاکستان زندہ باد کے ساتھ 15اگست 1947کی تاریخ درج تھی لہٰذا یہ سوال بہت اہم ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اپنا یومِ آزادی 15اگست کے بجائے 14اگست کو منانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کیلئے تحقیق کی جائے تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جنہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھ کی قائداعظم ؒ کے بارے میں سوانح عمری 1954میں شائع ہوئی تو اس میں بانی پاکستان کی زندگی اور کردار کے اہم گوشوں کو چھپا دیا گیا جس پر محترمہ فاطمہ جناح خوش نہیں تھیں۔بعدازاں اسٹینلے والپرٹ سمیت...

دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی. باقی مرضی آپ کی"

Image
 سوچئے ؟؟ بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی! "ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا، شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا. اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔  دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں  اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی. ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں. ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے. اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا. کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں. مناسب رقم ج...

قصاب کی بیٹی ۔۔۔۔

1979 سخت ترین جاڑے کی ایک اتنی ہی سرد اور اداس شام تھی۔ یوگوسلاویہ کے دورافتادہ اور پسماندہ گاوں میں ایک قصاب بخار میں پھنک رہا تھا۔ پریشانی اس کے چہرے پہ عیاں تھی ۔ کسی نہ کسی طرح ہمت جمع کرکےاس نے گوشت تو بنا لیا تھا۔ مگر اسے ریستوران تک پہنچانا اسے عذاب لگ رہا تھا۔ اتنے میں اسکی 11 سالہ بیٹی سکول سے لوٹی۔ باپ کو پریشان دیکھ کر ماجرہ سمجھ گئی۔ برفباری میں گوشت سے لدی بھرکم ریڑھی کھینچ کر ریستوران تک چھوڑ آئی۔وہ مڈل سکول میں گاوں کے سکول میں اول آئی۔ تب امریکہ میں ہائی سکول میں وظیفے کا امتحان منعقد ہوا ۔ وہ اس میں منتخب ہونے والے چند طلبہ میں سے ایک تھی۔ قصاب کی بیٹی کو پڑھنے اور محنت کرنے کا جنون تھا۔ جو بالآخر اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی سکول میں لے گیا۔ چند برس کی محنت شاقہ کے نتیجےمیں وہ امور خارجہ میں ماہر سمجھی جانے لگی۔ امریکہ میں اپنے ملک کی پہلی خاتون سفیر مقرر ہوئی۔ وزارت خارجہ کا مشکل فریضہ انتہائی خوبصورتی سے نبھایا ۔ اسی خاتون کو چند روز قبل ساری دنیا نے ستائش بھری نظروں سے FIFA ورلڈ کپ کے فائنل میں اپنی ٹیم کا دیوانہ وار جذبہ بڑھاتے دیکھا۔ وہ عام سٹینڈ میں اپنے ہم و...

ندامت سے میرا سر جھک گیا۔

Image
 کچھ عرصہ قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہ دیتا.. میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں.. میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے.. شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے.. یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا.. پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا.. مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا !!! میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا.. وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا.. میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے.. رزق کی بےحرمتی کرتا ہے اسے ضائع کردیتا ہے.. اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے.. یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا.. "بھائی ! یہ دیکھو ! یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں.. الله انہیں کیسے رزق دیتا ہے.." میں ...

انکریمنٹ_اور_پروموشن

Image
#انکریمنٹ_اور_پروموشن ایک دن بیوی اپنے شوہر سے لڑ رہی تھی کہ چوبیس گھنٹے آن ڈیوٹی ہوتی ہوں ، کام ختم ہی نہیں ہوتے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ آپ کی طرح نہ تو کبھی سالانہ انکریمنٹ لگتی ہے اور نہ ہی پروموشن ہوتی ہے شوہر نے کہا میری انکریمنٹ لگے یا پروموشن ہو ، ظاہر ہے سب کچھ تمہارا ہی ہے لیکن پھر بھی تمہارے دونوں گِلے دور کر دیتا ہوں ہر سال تمہاری پاکٹ منی میں ایک ہزار کا اضافہ ہوگ بیوی نے ہنستے ہوئے کہا کہ ڈن ہوگیا ، اب پروموشن کی بات کریں شوہر نے کہا میری کسی بیس بائیس سال کی جوان دو شیزہ سے شادی کرا دو تم سینئر ہوجاؤ گی اور وہ جونئیر اب بیوی  پروموشن لینے سے انکاری ہیں اور شوہر انکریمنٹ دینے سے....😜😂 ان

اس غریب زادے نے دنیا کی سب سے بڑی فوج بنائی اور آدھی دنیا روند ڈالی ۔

Image
امیر تیمور تاریخ کاآخری بڑا فاتح تھا‘ ازبکستان کے اس غریب زادے نے دنیا کی سب سے بڑی فوج بنائی اور آدھی دنیا روند ڈالی  رائفل کا موجد بھی یہ تھا‘ تیموری رائفل میں تیر لوڈ ہوتے تھے‘ سپاہی ٹریگر دباتا تھا اورتیر فورس کے ساتھ دور جا گرتاتھا۔ آپ نے دیکھا ہو گا دنیا بھر کی رائفلوں کا دستہ لکڑی کا ہوتا ہے‘ لکڑی کا یہ دستہ امیر تیمور کی یادگار ہے‘ اس نے تیر پھینکنے والی رائفل میں لکڑی کا دستہ لگوایا تھا‘یہ آج تک لگ رہا ہے‘ جنگ میں بارود اور بموں کا استعمال بھی امیر تیمور نے شروع کرایا تھا‘ یہ مٹی کی ہانڈی میں بارود بھرتا تھا‘ ہانڈی کی گردن میں رسی باندھی جاتی تھی‘ وہ ہانڈی میں فتیلہ رکھ کر اسے آگ لگاتا تھا ‘ سپاہی رسی پکڑ کر ہانڈی کو سر پر گھماتا تھا اور دشمن پر پھینک دیتا تھا اور دشمن زخمی ہو جاتا تھا‘ یہ بم کی ابتدائی شکل تھی۔ تیمور کے بعد بارود کی نئی قسمیں آئیں اور لوہے کے بم شروع ہو گئے یہاں تک کہ1867ء میں الفریڈ نوبل نے ڈائنامائیٹ ایجاد کر لیا۔ امیر تیمور تین براعظموں کو اپنے قدموں میں روندنے والا آخری بادشاہ تھا‘ ماضی کے 58 اور موجودہ 27 ملک فتح کیے ‘ پوری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پ...

دھوبی کا کتّا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔

  دھوبی کا کتّا روائتی طور پر دھوبی کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔ وجہ یہ ہے دھوبی کپڑے گھاٹ پر دھوتے تھے اور وہیں سکھاتے تھے۔ *گھاٹ کسے کہتے ہیں؟* گھاٹ کسی دریا یا ندی یا چشمے کا وہ حصّہ جہاں پانی اتھلا ہو۔ یہ لفظ گھٹ یعنی گھٹنے سے نکلا ہے۔ گھاٹ کشتیوں کو کنارے لگانے کے لیے، مسافروں کو اور سامان کو اتارنے چڑھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے/ہیں۔ غازی گھاٹ ڈیرہ غازی خان کا ایک مشہور گھاٹ ہے۔ *دھوبی کپڑے گھاٹ پر کیوں دھوتے ہیں؟*   گھاٹ پر پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے اس لیے وہاں دھوبی کے ڈوبنے اور کپڑوں کے بہہ جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ *گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا کیوں کہتے ہیں؟*   سمندری جہازوں یا دریائی کشتیوں کے مسافروں کے لیے پینے کا پانی اسی گھاٹ سے بھرا جاتا تھا جہاں کشتی لنگر انداز ہوتی تھی۔ جو شخص بہت زیادہ پانی میں سفر کرتا تھا اس کے بارے میں یہ کہتے تھے۔   دھوبی کپڑے گھاٹ پر دھوتے تھے اور وہیں سکھاتے تھے۔    سکھائے ہوئے کپڑوں کی حفاظت کرنے کے لیے دھوبی کتّا پالتا تھا۔ ورنہ انسان اور جانور ان کپڑوں کو چوری یا خراب کر سکتے تھے۔ جب دھوبی میلے کپڑے لے کرگھر...

تاریخ گوادر کا ایک بڑا نام۔

گوادر کی فاتح پاکستان کی ایک گم نام ھیرو اور محسنہ جس کو شاید ہی بیس کروڑ ھجوم میں سے کوئی جانتا ھو ۔۔۔ ایک بار ضرور پڑھئے ۔۔۔ گوادر کے متعلق اہم ترین معلومات ۔۔۔۔ ایک مادر مہربان آج کون کون جانتا ہے کہ پاکستان کیلئے لازوال محبت و ایثار کا جذبہ رکھنے والی ایک عظیم خاتون نے اپنی مدمقابل چار عالمی طاقتوں سے ایک قانونی جنگ لڑ کر 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل گوادر جیسی اہم ترین کوسٹل اسٹیٹ پاکستان میں ضم کروائی تھی۔ دو بلوچی الفاظ گوات بمعنی کھلی ہوا اور در بمعنی دروازہ کا مرکب جو عرف عام میں گوادر کہلاتا ہے یہ 1956 تک عالمی استعمار کے اس ناجائز قبضے میں تھا جس کی داستان احسان فراموشی اور عیاری کا ایک نادر نمونہ ہے۔ گوادر اسٹیٹ اٹھارہویں صدی کے، خان آف قلات، میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی لیکن اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنا خان صاحب کیلئے کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ گچکی قبائل کی شورشیں تھیں کیونکہ ماضی میں وہ بھی اس علاقے کے حکمران رہ چکے تھے اور اسے واپس حاصل کرنا چاہتے ۔ خان صاحب نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کا کنٹرول ہی گچکی قوم کے ہاتھ میں د...

ہمارا ھر شہری اور ہر پاسپورٹ ھمیشہ کے لیے مشکوک ھو جاتا

Image
 انگلینڈ کا جعلی پاسپورٹ امریکہ میں پکڑا گیا اور تصدیق کے لیے انگلینڈ بھیجا گیا۔  جعلی ثابت ھونے کے باوجود امریکہ کو جواب دیا کہ اصلی ھے اور برطانیہ کا جعلی بنانا نا ممکن ھے۔  ساتھ بیٹھے کولیگ کے پوچھنے پر کہ آپ نے جعلی کو اصل کیوں کہا تو کیا جواب دیا۔  ( اپنی عوام اور اپنے ملک کے وفادار نے) انہوں نے کہا کہ اسکو سزا دینا ھمارا اندرونی معاملہ ھے۔ اگر آج ایک پاسپورٹ جعلی کنفرم کر دیتے تو پوری دنیا میں ھمارا ھر شہری اور ہر پاسپورٹ ھمیشہ کے لیے مشکوک ھو جاتا ۔  تو پوری قوم کو جو ازیت اور شرمندگی ھوتی اسکا شمار نہی ھو سکتا ۔ _______________________ ادھر بغیر مکمل تحقیق کے پوری ایئر لاین کو کھڈے لائن لگا کے انکے پیروکار اسکی فضیلت بیان کرتے نہی تھک رھے #copied

اخروٹ کا سو گھوڑوں والا درخت۔

Image
اخروٹ کا سو گھوڑوں والا درخت - Chestnut Tree of One Hundred Horses شاہ بلوط کا یہ درخت اٹلی کے شہر سسلی میں واقع ہے جو ایک وسیع تنے پر مشتمل ہے دوہزار سال قدیم اس درخت کے تنے کی سب سے زیادہ پیمائش 1780 میں 190فٹ ریکارڈ کی گئی تھی- مورخین درخت کی وجہ شہرت وہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس کے مطابق مملکت Aragon کی ملکہ اور اس کا فوجی قافلہ جب ماؤنٹ اینٹا کی جانب محو سفر تھا تو شدید باد وباراں نے قافلے کو گھیر لیا اس وقت ملکہ اور اس کے سو گھڑ سواروں نے اسی تاریخی درخت کے وسیع تنے کے اندر پناہ لی تھی تاہم اب درخت کا تنا سمٹ کر مختصر ہو چکا ہے ۔

پاکستا ن کا وزیر اعظم جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی تھی۔

Image
آج سے تقریباً 96سال قبل یعنی20ستمبر1916ء کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا‘ چاربہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹاتھا‘ پوراگاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا‘اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھالہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے جاتا‘راستے میں ایک برساتی نالے سے اسے گزرناپڑتا‘چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا‘اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا‘مذید تعلیم حاصل کرنے لاہورآیا‘یہاں اس نے سنٹرل ماڈل سکول میں(جوکہ اس وقت کا نمبر 1سکول تھا) داخلہ لے لیا‘اس کا گاؤں شہر سے13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کی وجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالاتکے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ ان حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا‘ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں...

گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا

Image
حرمین شریفین کی انتظامیہ کی جانب سےایک تقریب منعقد کی گئی جس میں مسجد نبوی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر مبارک کے بارے میں مکمل وضاحت کی گئی “ تشریح وتوضیح:- گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔ وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحاب کی قبریں ہیں، اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے۔ یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔ اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ روضہ رسولؐ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر پڑے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔ روضہ رسولؐ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیو...