دوسروں کی زندگی تباہ و برباد مت کیجئے"

ایک نوجوان نے دوسرے سے پوچھا:
آپ کہاں کام کرتے ہیں؟
اس نے جواب دیا: فلاں دکان پر.
پھر پوچھا: اچھا! دکان والا آپ کو کتنی تنخواہ دیتا ہے؟
اس نے جواب دیا 5000
نوجوان نے بڑی حیرت سے پوچھا: 5000 بس ؟
اتنے میں کیسے تمہارا گزر بسر ہوتا ہے۔ یقینا وہ دکان والا اس لائق نہیں کہ آپ اس کے پاس اتنی تنخواہ میں کام کریں۔
اسی دن سے اسے اپنے کام سے نفرت ہونے لگی۔ وہ دکان والے سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کرنے لگا۔ دکان والے نے تنخواہ بڑھانے سے انکار کر دیا۔ تو اس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ پہلے جو کچھ کماتا تھا اب اس سے بھی ہاتھ دھو کر کے بیٹھ گیا اور بے کاری کی زندگی گزارنے لگا۔
_____________
ایک خاتون کے یہاں ولادت ہوئی۔ اس کی سہیلی اس مبارک موقع پر اس سے پوچھ بیٹھی: تمہارے شوہر نامدار نے ولادت کے اس مبارک موقع پر تمہارے لیے کیا تحفہ پیش کیا؟
اس خاتون نے جواب دیا: کچھ بھی نہیں!
اس کی سہیلی بڑی حیرت سے کہنے لگی: کتنی عجیب بات ہے! کیا اس کے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت ہی نہیں۔
اس کی سہیلی الفاظ کا یہ بارود اس پر ڈال کر چلتی بنی۔
ظہر کے وقت اس کا شوہر گھر آیا۔ تو دیکھا بیوی بہت ناراض بیٹھی ہے۔ دونوں میں کہا سنی ہوئی اور معاملہ طلاق تک پہنچ گیا۔
یہ تباہی کہاں سے شروع ہوئی؟ اس کی سہیلی کی اسی بات سے۔
________________
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک باپ تھا، بڑی سکون و اطمینان بھری زندگی گزار رہا تھا۔ کسی نے اس سے کہہ دیا: کیا تمہارا بڑا بیٹا تمہاری خیریت پوچھنے نہیں آتا؟
کتنی عجیب بات! آخر اس کے پاس کیا مجبوری ہے۔ پھر کیا تھا اس باپ کے دل میں یہ باتیں ہیں گھر کر گئیں۔ اور اسی دن سے اس کی پرسکون والی زندگی غارت ہوگئی۔
_______________
ہماری روزمرہ کی زندگی میں بارہا ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جو دیکھنے میں بڑے معصوم سے لگتے ہیں مگر وہ حقیقت میں زندگی کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر
آپ کے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟
آپ وہ فلاں چیز کیوں نہیں خرید لیتے؟
آپ یہ اذیت بھری زندگی کیسے جھیل رہے ہیں؟
آپ اس بندے کو کیسے اپنی زندگی میں برداشت کر رہے ہیں؟
بسا اوقات ہم اس طرح کے سوالات نادانی میں یا ہوں ہی بطور تفریح کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن شاید ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ یہ سوالات مخاطب کے دل میں کتنا گہرا زخم دے جاتے ہیں۔
 اس تحریر یا پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کی زندگی تباہ کرنے کا سبب نہ بنو۔
ایک اورنصیحت!
جب کسی کے گھر میں داخل ہو تو ایک اندھے کی طرح۔ اور جب وہاں سے نکلو تو ایک گونگے کی طرح۔
اس طرح کے نصیحت آموز پیغامات بھیجتے ہوئے مجھے اپنے بارے میں ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہوتا کہ میں بہت پاک و صاف ہوں۔ اس لئے ان پیغام کا سب سے پہلا مخاطب میں اپنے آپ ہی کو سمجھتی ہوں۔
اس پیغام کا ایک ہی عنوان ہے: *"دوسروں کی زندگی تباہ و برباد مت کیجئے"*
جزاک ا
للہ خیرا.

Comments

Popular posts from this blog

دلچسپ معلومات۔interesting informatioon

ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ ۔اصلی حقیقت

تھپڑ کی قیمت The price of a slap۔