Posts

قائد اعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔

Image
قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھوں نے یہ واقعہ سنایا ’’میں پہلے ایک ہی برتھ مخصوص کراتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں لکھنٔو سے بمبئی جا رہا تھا۔ کسی چھوٹے سے اسٹیشن پر ریل رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسری برتھ پر بیٹھ گئی۔ چونکہ میں نے ایک ہی برتھ مخصوص کرائی تھی، اس لیے خاموش رہا. ریل نے رفتار پکڑی تو اچانک وہ لڑکی بولی ’’تمھارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو، ورنہ میں ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ میں نے کاغذات سے سر ہی نہیں اٹھایا۔اُس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔ آخر تنگ آ کر اُس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا ’’میں بہرہ ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے، لکھ کر دو۔‘‘اُس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کر دیا۔میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے مع تحریر ریلوے حکام کے حوالے کردیا۔ اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھیں مخصوص کراتا ہوں۔‘‘😀 ا یک بار قائد اعظم محمد علی...

بزرگ نے جج کو دعا دی اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار لگائے۔

Image
‏13سال بعد مقدمہ جیتنے پر بزرگ کو جج نے مبارکباد دی تو بزرگ نے جج کو دعا دی  اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار بناۓ ۔جج بزرگ کی سادگی پر مسکرا دیا اور کہا جج تھانیدار سے بڑا ہوتا ہے  بزرگ بولے نہیں بیٹا تھانیدار بڑا ہوتا ہے جج نے پوچھا کیسے؟ ‏تو بزرگ بولے آپکو کیس ختم کرنے میں 13سال لگ گے تھانیدار شروع سے بول رہا تھا 5000 دے دو اور میں معاملہ ادھر ہی رفع دفع کردیتا ہوں۔,,, منقول

دانت برش کرنا ہمار روزمرہ کا معمول بانے۔

Image
بسم اللہ الرحمن الرحیم #دانت برش کرنا ہمار روزمرہ کا معمول ہے ۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ٹوتھ برش کی ٹیوب پر بالکل نیچے ایک رنگین چوکور ڈبہ بنا ہوتا ہے جو کلر کوڈ کہلاتا ہے۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کلر کوڈ کیا بتاتے ہیں۔ سیاہ ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کے نیچے بنے کلر کوڈ کا سیاہ رنگ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف کیمیکلز سے بنا ہوا ٹوتھ پیسٹ ہے۔ سرخ سرخ رنگ کا کوڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ قدرتی اور کیمیائی اجزا کی آمیزش سے بنایا گیا ہے۔ نیلا نیلے رنگ کا مطلب ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں قدرتی اجزا اور دوائیں شامل ہیں۔ یہ ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی کسی قسم کی بیماری رکھنے والے افراد کو تجویز کیا جاتا ہے۔ سبز سبز کلر کوڈ ٹوتھ پیسٹ کے خالص قدرتی اجزا سے بنے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب بھی ٹوتھ پیسٹ خریدا جائے تو ان کلر کوڈز کو ذہن میں رکھتے ہوئے خریدا جائے۔ بچوں کے لیے سیاہ کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جو صرف کیمیکلز سے بنائے گئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح سبز کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی صحت کے لیے موزوں ہیں۔

دوسروں کی زندگی تباہ و برباد مت کیجئے"

Image
ایک نوجوان نے دوسرے سے پوچھا: آپ کہاں کام کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: فلاں دکان پر. پھر پوچھا: اچھا! دکان والا آپ کو کتنی تنخواہ دیتا ہے؟ اس نے جواب دیا 5000 نوجوان نے بڑی حیرت سے پوچھا: 5000 بس ؟ اتنے میں کیسے تمہارا گزر بسر ہوتا ہے۔ یقینا وہ دکان والا اس لائق نہیں کہ آپ اس کے پاس اتنی تنخواہ میں کام کریں۔ اسی دن سے اسے اپنے کام سے نفرت ہونے لگی۔ وہ دکان والے سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کرنے لگا۔ دکان والے نے تنخواہ بڑھانے سے انکار کر دیا۔ تو اس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ پہلے جو کچھ کماتا تھا اب اس سے بھی ہاتھ دھو کر کے بیٹھ گیا اور بے کاری کی زندگی گزارنے لگا۔ _____________ ایک خاتون کے یہاں ولادت ہوئی۔ اس کی سہیلی اس مبارک موقع پر اس سے پوچھ بیٹھی: تمہارے شوہر نامدار نے ولادت کے اس مبارک موقع پر تمہارے لیے کیا تحفہ پیش کیا؟ اس خاتون نے جواب دیا: کچھ بھی نہیں! اس کی سہیلی بڑی حیرت سے کہنے لگی: کتنی عجیب بات ہے! کیا اس کے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس کی سہیلی الفاظ کا یہ بارود اس پر ڈال کر چلتی بنی۔ ظہر کے وقت اس کا شوہر گھر آیا۔ تو دیکھا بیوی بہت ناراض بیٹھی ہے۔ دونو...

بیٹی کی خاطر 20 لاکھ ڈالر جلانے والا شخص

Image
بیٹی کی خاطر 20 لاکھ ڈالر جلانے والا شخص تصویر میں دکھائی دینے والے اس شخص کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں 2 ملین (20لاکھ) ڈالر جلائے تھے۔ اس شخص نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ اس کے پاس جلانے کے لیے لکڑیاں نہیں تھیں اور اس کی بیٹی کو ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ یہ شخص کوئی اور نہیں انڈرورلڈ ڈان “Pablo Escober” تھا۔ وکی پیڈیا کے مطابق انتقال کے وقت اس کے پاس 1993ء میں کالا دھن 30 بلین ڈالر تھا جس کی مالیت آج کل 53.5 بلین ڈالر بنتی ہے۔ اگر اسے پاکستانی روپیہ میں تبدیل کریں تو یہ 8,626,875,000,000 (چھیاسی کھرب، چھبیس ارب، ستاسی کروڑ، پچاس لاکھ) بنتی ہے۔

عدل وانصاف کی پاسداری ۔۔

Image
ایک دن شیر شاہ سوری کےسامنے ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا جس میں قاتل کا سراغ نہیں مل رہا تھا یہ قتل اٹاوہ کے کسی علاقے میں ہوا تھا۔ شیر شاہ سوری نے مقدمے کی سماعت کی۔ اس نے اٹاوہ کے شقدار کو حکم بھیجا کہ جس علاقے میں قتل ہوا ہے اس کے آس پاس واقع کسی درخت کو دو آدمی بھیج کر کٹوائے اور جو سرکاری عامل اس درخت کے کاٹنے کی اطلاع پا کر آئیں انہیں پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دو۔ شقدار نے شاہی فرمان کے مطابق دو آدمی درخت کاٹنے کے لئے موقعہ واردات پر بھیجے۔ وہ ابھی درخت کاٹ ہی رہے تھے کہ علاقے کے  can اور معتبروں نے انہیں موقع پر آن پکڑا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اشخاص نے درخت کاٹنا چھوڑ دیا اور ان معتبروں کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے ان سے دریافت کیا کہ تمہیں درخت کٹنے کی خبر تو ہو گئی لیکن ایک انسان کی گردن کٹ گئی اور تم اس سے بے خبر رہے۔ میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تین دن کے اندر اند ر قاتل کو پیش کرو ورنہ سزا میں تم قتل کر دیئے جاؤ گے۔ معتبروں کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور تیسرے دن کا سورج ابھی طلوع بھی نہ ہوا تھا کہ “قاتل شاہی دربار کے دروازے پر زنجیر و سلاسل میں جکڑے ہوئے حاضر تھے”...

جب معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ گیا.

Image
کچھ عرصہ پہلے ایک سفر کے دوران ﺟﻮﻧﮩﯽ سرگودھا ﮐﮯ پہاڑوں کی ﻣﻮﮌﻭﺍﻟﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺭﻭﮈ ﺑﻼﮎ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ لوﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻟﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﻓﺎﺭﻣﺰ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺭﻧﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ . ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ تھیلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ . ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﺖ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ . ﺑﻶﺧﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﻣﺸﺘﻌﻞ ﮨﺠﻮﻡ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ . ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ . ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﻋﻤﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﻢ کافی ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ . ﻟﻮ ﺟﯽ ﺍﺩ...